Sunday, 6 June 2021

ہوتی ہے لبوں پر خاموشی آنکھوں میں محبت ہوتی ہے

 ہوتی ہے لبوں پر خاموشی آنکھوں میں محبت ہوتی ہے

جب ان سے نگاہیں ملتی ہیں اس وقت یہ حالت ہوتی ہے

رینگنئ بزم دنیا میں ایسا بھی زمانہ آتا ہے

وہ درد قضا بن جاتا ہے جس درد میں راحت ہوتی ہے

یہ تجھ پہ فلک نے ظلم کیا وہ مجھ سے جدا میں ان سے جدا

خوشیاں تو مناؤ اہلِ جہاں برباد محبت ہوتی ہے

آتے ہیں وہ سیر گلشن کو کانٹوں سے بچائے دامن کو

ہونٹوں پہ تبسم ہے ان کے آنکھوں سے شرارت ہوتی ہے

دیکھا ہے ہماری آنکھوں نے یہ بات حقیقت ہوتی ہے

ہر شخص مہرباں ہوتا ہے جب اس کی عنایت ہوتی ہے

تنہائی کے عالم میں اکثر دل اس سے بہلتا ہے شیون

تاریکئ شام ہجراں میں غم کی بھی ضرورت ہوتی ہے


شیون بجنوری

No comments:

Post a Comment