بھری بستی سے اک چہرہ گیا ہے
میرا سورج سا دل گہنا گیا ہے
کسی کا کچھ نہیں بگڑتا میری جان
دلِ خوش فہم تو مارا گیا ہے
میں آدھا اس کے ہمراہ جا چکا ہوں
مگر مجھ سے تو وہ پورا گیا ہے
وہ کیا جانے تیری دریا دلی کو
تیرے ساحل سے جو پیاسا گیا ہے
جیسے چاہا وہی تم کو رُلائے
ہمیشہ یہ ہی دیکھا گیا ہے
وہ اک آنسو تو میرے نام کرتا
مجھے دُکھ ہے کہ وہ ہنستا گیا ہے
اسے تو اک دن جانا تھا حیدر
مگر یہ وقت کیوں پتھرا گیا ہے
حیدر گیلانی
No comments:
Post a Comment