Thursday, 22 April 2021

بھری بستی سے اک چہرہ گیا ہے

 بھری بستی سے اک چہرہ گیا ہے

میرا سورج سا دل گہنا گیا ہے

کسی کا کچھ نہیں بگڑتا میری جان

دلِ خوش فہم تو مارا گیا ہے

میں آدھا اس کے ہمراہ جا چکا ہوں

مگر مجھ سے تو وہ پورا گیا ہے

وہ کیا جانے تیری دریا دلی کو

تیرے ساحل سے جو پیاسا گیا ہے

جیسے چاہا وہی تم کو رُلائے

ہمیشہ یہ ہی دیکھا گیا ہے

وہ اک آنسو تو میرے نام کرتا

مجھے دُکھ ہے کہ وہ ہنستا گیا ہے

اسے تو اک دن جانا تھا حیدر

مگر یہ وقت کیوں پتھرا گیا ہے


حیدر گیلانی

No comments:

Post a Comment