Thursday, 22 April 2021

اک تری یاد سے یادوں کے خزانے نکلے

 اک تِری یاد سے یادوں کے خزانے نکلے

ذکر تیرا بھی محبت کے بہانے نکلے

ہم نے سمجھا تھا کہ دل ہے تیرا مسکن لیکن

جانے والوں کے کہیں اور ٹھکانے نکلے

پھر مِرے کان میں گونجی ہیں دعائیں تیری

تیری آغوش میں غم اپنے چھپانے نکلے

ایک خوشبو کی طرح گاہے بگاہے آنا

کتنے سندر تِرے کچھ روپ سہانے نکلے

دل میں کچھ ٹوٹنے لگتا ہے تِرے ذکر کے ساتھ

چند آنسو تِری الفت کے بہانے نکلے

میں تو اک روپ ہوں تیرا یہی کافی ہے صبا

اب اسی رنگ سے اس دل کو سجانے نکلے


صبیحہ صبا

No comments:

Post a Comment