بوند دو بوند نہیں لے کے وہ دریا گزرا
تیرے در سے کوئی بدبخت نہ پیاسا گزرا
چیخ سن پایا نہ روتا ہوا چہرہ دیکھا
بلکہ انجان مِرے غم سے شناسا گزرا
ایک عالم کا جہاں سے تھا گزرنا مشکل
عزمِ محکم مِرا اس راہ سے تنہا گزرا
خون آلود نظر آتا ہے کل کا سورج
فکرِ گلشن ہے ہمیں وقت ہمارا گزرا
وقت کی فکر میں مسرور گھُلے کیوں آخر
وقت کو یوں بھی گزرنا تھا گزارا گزرا
مسرور نظامی
No comments:
Post a Comment