Monday, 15 November 2021

بوند دو بوند نہیں لے کے وہ دریا گزرا

 بوند دو بوند نہیں لے کے وہ دریا گزرا

تیرے در سے کوئی بدبخت نہ پیاسا گزرا

چیخ سن پایا نہ روتا ہوا چہرہ دیکھا

بلکہ انجان مِرے غم سے شناسا گزرا

ایک عالم کا جہاں سے تھا گزرنا مشکل

عزمِ محکم مِرا اس راہ سے تنہا گزرا

خون آلود نظر آتا ہے کل کا سورج

فکرِ گلشن ہے ہمیں وقت ہمارا گزرا

وقت کی فکر میں مسرور گھُلے کیوں آخر

وقت کو یوں بھی گزرنا تھا گزارا گزرا


مسرور نظامی

No comments:

Post a Comment