Tuesday, 23 March 2021

حشر مرا بخیر ہو مجھ کو بنا رہے ہو تم

 حشر مرا بخیر ہو ، مجھ کو بنا رہے ہو تم

خاک میں جان ڈال کر، خاک اڑا رہے ہو تم

عبرتِ ذوق زہر خند، ذوقِ زبوئی دو چند

شوق بڑھا کے پے بہ پے شمعیں بجھا رہے ہو تم

میرے عدم میں بھی بہم، تھا ستمِ ازل کا غم

پہلے ہی میں نزار تھا، اور ستا رہے ہو تم

سوز تو سوز ہے مگر ساز بھی سوز ہو نہ جائے

ساز کو آج سوز کے سامنے لا رہے ہو تم

تہمتِ ہست بھی روا، حاصلِ نیست بھی بجا

ہاں مِری سر نوِشت کے داغ مِٹا رہے ہو تم

خندۂ زیرِ لب بھی ہے، گریۂ بے سبب بھی ہے

بے ہمہ و بہر ادا، رنگ جما رہے ہو تم 


حسن لطیفی

No comments:

Post a Comment