Sunday, 23 May 2021

حشر مرا بخیر ہو مجھ کو بنا رہے ہو تم

 حشر مِرا بخیر ہو مجھ کو بنا رہے ہو تم

خاک میں جان ڈال کر خاک اُڑا رہے ہو تم

عبرتِ ذوق زہر خندۂ ذوق زبونی دو چند

شوق بڑھا کے پے بہ پے شمعیں بُجھا رہے ہو تم

میرے عدم میں بھی بہم تھا ستمِ ازل کا غم

پہلے ہی میں نزار تھا اور ستا رہے ہو تم

سوز تو سوز ہے مگر ساز بھی سوز ہو نہ جائے

ساز کو آج سوز کے سامنے لا رہے ہو تم

درخور سجدہ ہے ابھی اور ابھی ننگ زندگی

عشقِ وفا سرشت کو خوب رُلا رہے ہو تم

تہمتِ ہست بھی روا حاصل نیست بھی بجا

ہاں مِری سر نوشت کے داغ مٹا رہے ہو تم

خندۂ زیر لب بھی ہے گریۂ بے سبب بھی ہے

بے ہمہ و بہرِ ادا رنگ جما رہے ہو تم


حسن لطیفی

No comments:

Post a Comment