Sunday, 17 October 2021

آج مہندی لگائے بیٹھے ہیں

 آج مہندی لگائے بیٹھے ہیں

خوب وہ رنگ لائے بیٹھے ہیں

میرے آتے ہی ہو گئے برہم 

کچھ کسی کے سکھائے بیٹھے ہیں

تیغ کھینچی ہے قتل پر میرے

ہاتھ مجھ سے اٹھائے بیٹھے ہیں

میں شکایت جفا کی کرتا ہوں 

چپکے وہ سر جھکائے بیٹھے ہیں 

دم چرائے ہوئے پڑے ہیں ہم 

وہ جو بالیں پہ آئے بیٹھے ہیں

امتحاں کو کہا تو بولے وہ

ہم تمہیں آزمائے بیٹھے ہیں

کس کو نظروں سے آج اتاریں گے 

کیوں وہ تیوری چڑھائے بیٹھے ہیں 

دیکھیۓ کب وہ شمع رو آئے 

شام سے لو لگائے بیٹھے ہیں 

ٹالنا وصل کا جو ہے منظور 

خود سے خود منہ تھوتھائے بیٹھے ہیں 

سادہ پن میں ہزار جوبن ہیں

بال کھولے نہائے بیٹھے ہیں

کون پہلو سے اٹھ گیا انجم

آپ کیوں دل دبائے بیٹھے ہیں


آسماں جاہ انجم

No comments:

Post a Comment