Sunday, 17 October 2021

ترے بغیر نہیں دیکھ جھانک کر کوئی

 تِرے بغیر نہیں دیکھ جھانک کر کوئی

یہ دل وہ دل تھا کہ جس کا نہیں تھا در کوئی

بتا دے وحشتوں کی فوج کو چلی جائے

بتا دے جا کے نہیں یوں بھی آج گھر کوئی

میں جا رہا ہوں فصیلو، درختو، تصویرو

سو تم میں تو نہیں ہے میرا ہمسفر کوئی

اسے کہو کہ کسی کو تِری ضرورت ہے

کہو کہ جاگتا رہتا ہے رات بھر کوئی

یہ دشت دشت نہیں لگ رہا مجھے اعزاز

کہ میں نے چھوڑی نہیں اس کی رہگزر کوئی 


اعزاز افضل

No comments:

Post a Comment