یہ جو آکاش ہے ستاروں بھرا
میری حسرت ہے میرا آنچل ہو
یہ جو گھنگھور سی گھٹائیں ہیں
میری زلفوں کا کیوں نہ بادل ہو
یہ جو سرما کی کالی راتیں ہیں
یہ مِری چشمِ خوش کا کاجل ہو
وہ جو اک جھیل ہے پہاڑوں میں
مِرے ہاتھوں کی گویا چھاگل ہو
یہ جو پُر شور سی ہوائیں ہیں
میرے پاؤں کی جیسے پائل ہو
یہ جو ہے چاند پہلی راتوں کا
میرے رُخسار کا یہ ڈمپل ہو
یہ جو بل کھا کے بہتی ندیا ہے
میرے گیسو کا جیسے کنڈل ہو
یہ جو چھم چھم برستی بارش ہے
مِرے لب کی ہنسی کا جل تھل ہو
جو بھی بن میں سنبھل کے چلتا ہے
میرے تیرِ نظر سے گھائل ہو
جو بھی عالم ہے، جو بھی عاقل ہے
وہ مِری آرزو میں پاگل ہو
جہاں خوشیوں بھرے جہاز آئیں
وہ میری خواہشوں کا ساحل ہو
میں نہیں مانگتی سوا اس کے
بس مجھے اس قدر ہی حاصل ہو
عنبرین جمیل خان
No comments:
Post a Comment