Sunday, 17 October 2021

یہ جو آکاش ہے ستاروں بھرا

 یہ جو آکاش ہے ستاروں بھرا

میری حسرت ہے میرا آنچل ہو

یہ جو گھنگھور سی گھٹائیں ہیں 

میری زلفوں کا کیوں نہ بادل ہو

یہ جو سرما کی کالی راتیں ہیں

یہ مِری چشمِ خوش کا کاجل ہو

وہ جو اک جھیل ہے پہاڑوں میں

مِرے ہاتھوں کی گویا چھاگل ہو

یہ جو پُر شور سی ہوائیں ہیں

میرے پاؤں کی جیسے پائل ہو

یہ جو ہے چاند پہلی راتوں کا

میرے رُخسار کا یہ ڈمپل ہو

یہ جو بل کھا کے بہتی ندیا ہے

میرے گیسو کا جیسے کنڈل ہو

یہ جو چھم چھم برستی بارش ہے

مِرے لب کی ہنسی کا جل تھل ہو

جو بھی بن میں سنبھل کے چلتا ہے

میرے تیرِ نظر سے گھائل ہو

جو بھی عالم ہے، جو بھی عاقل ہے

وہ مِری آرزو میں پاگل ہو

جہاں خوشیوں بھرے جہاز آئیں 

وہ میری خواہشوں کا ساحل ہو

میں نہیں مانگتی سوا اس کے 

بس مجھے اس قدر ہی حاصل ہو 


عنبرین جمیل خان

No comments:

Post a Comment