چلو آج ہاتھ سے پھسل چکے سال کے
تمام لمحے یاد کر لیتے ہیں
وہ باتیں جن پہ اختلافات بڑھنے کے ڈر سے
چپ سادھ لی تھی ہم نے
وہ سب بول دیتے ہیں
کچھ خدشے بھی تو دامن سے لپٹے رہتے تھے
ان کو بھی ہواؤں کے سپرد کر کے
کسی اور نگر بھیج دیتے ہیں
وہ سب اچھی یادیں
جو آنکھ نم کرنے کا سبب بنیں
ان پہ مسکرا دیتے ہیں
کچھ سانسیں جو ہم کھلی فضا میں لینا چاہتے تھے جو وبا کی نظر ہوئی
ان سانسوں کو چھت پہ جا کر
شام کے دھندلکے میں
آزاد کر دیتے ہیں
گزرتے سال کی تمام تلخ یادیں کسی صندوق میں
قید نہ کرنا
کسی ساحل کنارے وہ سب دریا میں بہا دیں گے
گزرتے سال کے گزرتے لمحے
آؤ ہم سنگ منا لیتے ہیں
رابعہ ساجد
No comments:
Post a Comment