Friday, 8 January 2021

یادیں جو آنکھ نم کرنے کا سبب بنیں ان پہ مسکرا دیتے ہیں

 چلو آج ہاتھ سے پھسل چکے سال کے

تمام لمحے یاد کر لیتے ہیں

وہ باتیں جن پہ اختلافات بڑھنے کے ڈر سے

چپ سادھ لی تھی ہم نے

وہ سب بول دیتے ہیں

کچھ خدشے بھی تو دامن سے لپٹے رہتے تھے

ان کو بھی ہواؤں کے سپرد کر کے

کسی اور نگر بھیج دیتے ہیں

وہ سب اچھی یادیں

جو آنکھ نم کرنے کا سبب بنیں

ان پہ مسکرا دیتے ہیں

کچھ سانسیں جو ہم کھلی فضا میں لینا چاہتے تھے جو وبا کی نظر ہوئی

ان سانسوں کو چھت پہ جا کر

شام کے دھندلکے میں

آزاد کر دیتے ہیں

گزرتے سال کی تمام تلخ یادیں کسی صندوق میں

قید نہ کرنا

کسی ساحل کنارے وہ سب دریا میں بہا دیں گے

گزرتے سال کے گزرتے لمحے

آؤ ہم سنگ منا لیتے ہیں


رابعہ ساجد

No comments:

Post a Comment