دریاؤں کو حال سنا کر رقص کیا
صحراؤں کی خاک اڑا کر رقص کیا
قیس! تمہاری سُنت ایسے زندہ کی
ہاتھوں میں کشکول اٹھا کر رقص کیا
قیس! مجھے اس بات پہ حیرت ہوتی ہے
تُو نے کیسے دشت میں جا کر رقص کیا
ان لوگوں کی حالت دیکھنے والی تھی
جن لوگوں نے وجد میں آ کر رقص کیا
جب میری آواز نہ کانوں تک پہنچی
پھر میں نے تحریر میں آ کر رقص کیا
نیلی چھت پہ لا محدود پرندے تھے
آج کسی نے اشک بہا کر رقص کیا
بھید کھُلا جس شخص پہ تیرے ہونے کا
اس نے تیرے قُرب کو پا کر رقص کیا
چھن چھنا چھن چھن چھن چھن کی آئی صدا
گھنگھرو پہنے، ہوش گنوا کر رقص کیا
مستحسن میں جامی ہوں منصور نہیں
دلبر کو اشعار سنا کر رقص کیا
مستحسن جامی
No comments:
Post a Comment