Friday, 8 January 2021

کتنی مشکل سے بہلا تھا یہ کیا کر گئی شام

 کتنی مشکل سے بہلا تھا یہ کیا کر گئی شام 

ہنستے گاتے دل کو پل میں تنہا کر گئی شام 

دور افق پر کس کی آنکھیں رو رو ہو گئیں لال 

ریت کنارے کس کا آنچل گیلا کر گئی شام 

آتا، چاہے کوئی نہ آتا آس تو تھی دن بھر 

اب کیا رستہ دیکھیں رستہ دھندلا کر گئی شام

میرے بچھڑے دوست سے کتنی ملتی جلتی ہے

آئی اور آ کر آنکھوں کو دریا کر گئی شام

دور پہاڑی کی چوٹی پر روتی رہ گئی دھوپ

رات اندھیرے سے دنیا کا سودا کر گئی شام

پنچھی لوٹے ماہی لوٹے تُو بھی لوٹ حسن

دھرتی امبر کا منظر سُونا کر گئی شام


حسن کمال

No comments:

Post a Comment