Friday, 8 January 2021

میرے نام کا کتبہ لگا دو

 کتبہ


مجھ کو یہ احساس ہے

میں مر گیا ہوں

ٹوٹ کر میں ریزہ ریزہ

ہر طرف بکھرا ہوا ہوں

پھر بھی اک آواز

سائے کی طرح

احساس سے چمٹی ہوئی ہے

تم بھی زندہ ہو اور زندہ رہو گے

پھر بھی میں یہ چاہتا ہوں

مجھ کو میری قبر کی صورت بنا دو

اور

میرے نام کا

کتبہ لگا دو


اسلم آزاد

No comments:

Post a Comment