لوگ وابستہ ہیں اس یارِ طرحدار کے ساتھ
اب بھی بیٹھے ہیں کئی سایۂ دیوار کے ساتھ
کار دنیا سے گئے دیدۂ بیدار کے ساتھ
ربط لازم تھا مگر نرگسِ بیمار کے ساتھ
قیمتِ شوق بڑھی ایک ہی انکار کے ساتھ
واقعہ کچھ تو ہوا چشمِ خریدار کے ساتھ
ایسے لگتا ہے کسی دشت میں آ نکلے ہیں
کتنی الفت تھی ہمیں صحن کے اشجار کے ساتھ
ہر کوئی جان بچانے کے لیے دوڑ پڑا
کون تھا آخرِ دم قافلہ سالار کے ساتھ؟
میں تِرے خواب سے آگے بھی نکل سکتا ہوں
دیکھ مجھ کو نہ پرکھ وقت کی رفتار کے ساتھ
ظلم سے ہاتھ اٹھانا نہیں آتا ہے اگر
کچھ رعایت ہی کرو اپنے گرفتار کے ساتھ
قیمتِ حسن و ادا، جان کی بازی ٹھہری
لوگ آئے تھے وہاں درہم و دینار کے ساتھ
حد سے بڑھ کر بھی تغافل نہیں اچھا ہوتا
کچھ تعلق بھی تو رکھتے ہیں پرستار کے ساتھ
آصف شفیع
No comments:
Post a Comment