فاصلے قُرب کی پہچان ہوا کرتے ہیں
بے سبب لوگ پریشان ہوا کرتے ہیں
یہ حقیقت ہے جہاں ٹوٹ کے چاہا جائے
وہاں بچھڑنے کے بھی امکان ہوا کرتے ہیں
میرے پھیلے ہوئے ہاتھوں کو حقارت سے نہ دیکھو
مانگنے والے بھی انسان ہوا کرتے ہیں
ہم بے صبر تھے مگر ہم سے بچھڑنے والے
ہم تیرے ضبط پر حیران ہوا کرتے ہیں
غم کی حِدت سے کوہسار پگھلتے دیکھے
انسان تو پھر انسان ہوا کرتے ہیں
زندگی جن کے لیے جرم و سزا ہو ناطق
گھر بھی ان کے لیے زندان ہوا کرتے ہیں
ناطق جعفری
No comments:
Post a Comment