Monday, 10 May 2021

ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہے

 ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہے

مہتاب بڑی دیر سے گہنایا ہوا ہے

ہے کوئی سخی اس کی طرف دیکھنے والا

یہ ہاتھ بڑی دیر سے پھیلایا ہوا ہے

حصہ ہے کسی اور کا اس کار زیاں میں

سرمایہ کسی اور کا لگوایا ہوا ہے

سانپوں میں عصا پھینک اب محوِ دعا ہوں

معلوم ہے دیمک نے اسے کھایا ہوا ہے

دنیا کے بُجھانے سے بُجھی ہے نہ بُجھے گی

اس آگ کو تقدیر نے دہکایا ہوا ہے

کیا دُھوپ ہے جو ابر کے سینے سے لگی ہے

صحرا بھی اسے دیکھ کے شرمایا ہوا ہے

اصرار نہ کر میرے خرابے سے چلا جا

مجھ پے کسی آسیب کا دل آیا ہوا ہے

تُو خوابِ دِگر ہے، تِری تدفین کہاں ہو

دل میں تو کسی اور کو دفنایا ہوا ہے


فیصل عجمی

No comments:

Post a Comment