Tuesday, 11 May 2021

حسیں ہے شہر تو عجلت میں کیوں گزر جائیں

 حسیں ہے شہر تو عجلت میں کیوں گزر جائیں

جنونِ شوق اسے بھی نہال کر جائیں

یہ اور بات کہ ہم کو نظر نہیں آئے

مگر وہ ساتھ ہی رہتا ہے ہم جدھر جائیں

حیات عشق کا مقصود بن گئی آخر

یہ آرزو کہ تِرا نام لے کے مر جائیں

یہ راہِ عشق ہے آخر کوئی مذاق نہیں

صعوبتوں سے جو گھبرا گئے ہوں گھر جائیں

پہنچ کے منزلِ مقصود پر ہی دم لیں گے

کہ چل پڑے ہیں تو کس منہ سے لوٹ کر جائیں


دل ایوبی

No comments:

Post a Comment