ایسا وردان ملے جس کو وہ پاگل ہو جائے
ہاتھ سونے کو لگاتا ہوں تو پیتل ہو جائے
تنہا رہنا ہے تو تنہائی مکمل ہو جائے
کیوں نہ ہر شخص تصور سے بھی اوجھل ہو جائے
مر چکا آنکھ میں امید کا پنچھی میرا
میرے ارمانوں کی دھرتی بھی نہ دلدل ہو جائے
عشق نازک سا وہ جذبہ ہے جو اندر اندر
کبھی چبھتا بھی رہے اور کبھی مخمل ہو جائے
جس کو چاہو نہ ملے، جس کو نہ چاہو، وہ ملے
زندگی!! تیرا معمہ بھی کبھی حل ہو جائے
لَو میں جس کی میں جلا کرتا ہوں دن رات وہی
جب مجسم ہو ان آنکھوں میں تو جل تھل ہو جائے
وقت نے اتنی گزارش بھی مِری ٹھکرا دی
آرزو تھی کوئی اک پل بھی مِرا پل ہو جائے
گھر میں یاد آتے ہیں وحشت کے وہ دن رات سہیل
ایسا ہو، اب یہی کمرہ مِرا جنگل ہو جائے
سہیل اختر
No comments:
Post a Comment