Wednesday, 12 January 2022

منزلوں کی چاہ لے کر راستوں میں قید ہیں

 منزلوں کی چاہ لے کر راستوں میں قید ہیں

جتنے تھے آزاد پنچھی گھونسلوں میں قید ہیں

جو یہ کہتے تھے ہمارے پاؤں میں تل ہے جناب

آج ایسے لوگ بھی اپنے گھروں میں قید ہیں

تجھ سے پہلے تیرے جیسی شان و شوکت کے یہاں

جانے کتنے بادشہ ان مقبروں میں قید ہیں

جو کئے محسوس میں نے اس کو چھو کر پہلی بار

آج بھی وہ ذائقے ان انگلیوں میں قید ہیں

خود اٹھانا پڑ رہا ہے بوجھ اپنا آج کل

حاشیہ بردار سارے حاشیوں میں قید ہیں


بلال سہارنپوری

No comments:

Post a Comment