Wednesday, 12 January 2022

کب تک سکوت دشت کو قائم رکھوں گا میں

 کب تک سکوتِ دشت کو قائم رکھوں گا میں

چیخوں گا؛ قیس کون تھا؟ دل میں کہوں گا؛ میں

رنگت کو اپنے چہرے کی، مانند زلفِ یار

اُڑنے کا فن سکھاؤں گا، اُڑنے نہ دوں گا میں

دستک زدہ کواڑ کے کُھلنے کی دیر ہے

جو مجھ پہ ہنس رہے ہیں نا ان پر ہنسوں گا میں

اس چشمِ بد سُخن کے قوافی سُدھار کر

تجھ نظم کو غزل کے موافق پڑھوں گا میں

فہرستِ کارِ ہجر بنا، اور اس میں لِکھ

کیا کیا نہیں کرے گا تُو، کیا کیا کروں گا میں

یہ شور پہلے شوق تھا، وقتِ فراق تک

جو کہہ رہا تھا؛ عین عمر چپ رہوں گا میں


عین عمر

No comments:

Post a Comment