وہ پھر سے لوٹ آیا ہے
مگر، پہلے سے زیادہ اجنبی ہے
پہلے سے زیادہ انجان سا ہے
پہلے سے زیادہ
کسی اور کا ہے
اُس کے ہاتھوں میں اِس بار
کسی کا ہاتھ ہے
وہ میرے پاس ہے پر
کسی کے ساتھ ہے
میں ملن کا یہ نظارہ دیکھ کر
اپنے ہی اندر گمشدہ ہوگئی ہوں
پہلے سے زیادہ تہی دامن ہو چکی ہوں
مٹی کے وجود کی بولتی دھڑکیں
لکڑی کی کھڑکی سے خاموش منظر
مجھے بتا گئے ہیں
صبر کا دامن پل میں چھوٹ گیا
دل پہلے سے زیادہ ٹوٹ گیا
حمیرا فضا
No comments:
Post a Comment