گردشِ دوراں! بتا کیوں تجھ کو حیرانی نہیں
وقت گزرا جا رہا ہے پھر بھی وہ فانی نہیں
جذب ہو کر رہ گیا ہے ایک دریا ریت میں
لاکھ طوفاں ہیں وہیں پر اب جہاں پانی نہیں
راستے بھٹکے ہوئے ہیں منزلیں گمراہ ہیں
اب ہجومِ کارواں کو خوفِ ناکامی نہیں
جب جہانِ آگہی کا ہر سفر ہے ناتمام
اے خِرد کیوں دل کی تُو نے ایک بھی مانی نہیں
تیرے میرے درمیاں ہے ایک مدت سے حجاب
زندگی صورت بھی تیری جانی پہچانی نہیں
سلمیٰ حجاب
No comments:
Post a Comment