ہر اک چہرے میں تبدیلی بہت ہے
کہ ہم نے زندگی جی لی بہت ہے
بہت گہرا ہے یہ نیلا سمندر
کسی کی آنکھ بھی نیلی بہت ہے
وہیں پر بیٹھ کر ہنستے تھے دونوں
وہ اک دیوار جو گیلی بہت ہے
گلاب و سوسن و چمپا، چنبیلی
زمیں کی سوچ رنگیلی بہت ہے
ہمارا کل اثاثہ ہے شرافت
سنا ہے وہ بھی شرمیلی بہت ہے
کئی دن ہو گئے فاقہ کشی کو
یا میری شرٹ ہی ڈھیلی بہت ہے
شہزور خاور
No comments:
Post a Comment