Saturday, 18 December 2021

ہر اک چہرے میں تبدیلی بہت ہے

 ہر اک چہرے میں تبدیلی بہت ہے

کہ ہم نے زندگی جی لی بہت ہے

بہت گہرا ہے یہ نیلا سمندر

کسی کی آنکھ بھی نیلی بہت ہے

وہیں پر بیٹھ کر ہنستے تھے دونوں

وہ اک دیوار جو گیلی بہت ہے

گلاب و سوسن و چمپا، چنبیلی

زمیں کی سوچ رنگیلی بہت ہے

ہمارا کل اثاثہ ہے شرافت

سنا ہے وہ بھی شرمیلی بہت ہے

کئی دن ہو گئے فاقہ کشی کو

یا میری شرٹ ہی ڈھیلی بہت ہے


شہزور خاور

No comments:

Post a Comment