Saturday, 18 December 2021

اب درد کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں ہے

 اب درد کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں ہے

اب دل کوئی پہلو ہو سنبھلتا ہی نہیں ہے

بے چین کئے رہتی ہے جس کی طلب دید

اب بام پہ وہ چاند نکلتا ہی نہیں ہے

اک عمر سے دنیا کا ہے بس ایک ہی عالم

یہ کیا کہ فلک رنگ بدلتا ہی نہیں ہے

ناکام رہا ان کی نگاہوں کا فسوں بھی

اس وقت تو جادو کوئی چلتا ہی نہیں ہے

جذبے کی کڑی دھوپ ہو تو کیا نہیں ممکن

یہ کس نے کہا سنگ پگھلتا ہی نہیں ہے


اختر لکھنوی

No comments:

Post a Comment