Saturday, 18 December 2021

ابر پارہ ہوں کوئی دم میں چلا جاؤں گا

 ابر پارہ ہوں کوئی دم میں چلا جاؤں گا

نقش بر آب ہوں لہروں میں سما جاؤں گا

دھار پر اپنے تعقل کو چڑھا جاؤں گا

رسمِ آزادیٔ افکار اٹھا جاؤں گا

یہ عقائد ہیں چھلاوے انہیں افشا کر دے

معنیٔ سیمیا دنیا کو بتا جاؤں گا

سر میں سودوں کے بنا کرتا ہوں تانے بانے

اہلِ تدبیر کو چکر میں پھنسا جاؤں گا

کیسے ترسیل کروں سامعۂ یاراں تک

شہرِ آشوب پرندوں کا سنا جاؤں گا

منہ کو بے روح کتابوں سے بصیرت نہ ملی

شہر سے جاتے ہوئے سب کو جلا جاؤں گا


گیان چند جین

No comments:

Post a Comment