Saturday, 18 December 2021

خود اپنی ذات کو مسمار کر کے

 خود اپنی ذات کو مسمار کر کے

کہاں جاؤں سمندر پار کر کے

کھلی جب آنکھ، کشتی جا چکی تھی

مِلا کیا خواب سے بیدار کر کے

تسلی بھی نہیں دیتا ہے کوئی

مصیبت سے مجھے دوچار کر کے

مجھے جھکنا تھا آخر جھک گیا میں

گرا وہ خود مجھی پہ وار کر کے

بہت دعویٰ تھا تجھ سے دوستی کا

بہت پچھتا رہا ہوں پیار کر کے

نہیں جی پاؤ گے اب تم تبسم

خود اپنی ذات کو بیدار کر کے


سرفراز تبسم

No comments:

Post a Comment