خود اپنی ذات کو مسمار کر کے
کہاں جاؤں سمندر پار کر کے
کھلی جب آنکھ، کشتی جا چکی تھی
مِلا کیا خواب سے بیدار کر کے
تسلی بھی نہیں دیتا ہے کوئی
مصیبت سے مجھے دوچار کر کے
مجھے جھکنا تھا آخر جھک گیا میں
گرا وہ خود مجھی پہ وار کر کے
بہت دعویٰ تھا تجھ سے دوستی کا
بہت پچھتا رہا ہوں پیار کر کے
نہیں جی پاؤ گے اب تم تبسم
خود اپنی ذات کو بیدار کر کے
سرفراز تبسم
No comments:
Post a Comment