Saturday, 18 December 2021

شب کے پردے میں اک آواز لگا جاتا ہے

 شب کے پردے میں اک آواز لگا جاتا ہے

شمع سی کوئی اندھیرے میں جلا جاتا ہے

لفظ و معنی سے جدا صوت و صدا سے محروم

غم کی تہذیب میں کچھ یوں بھی کہا جاتا ہے

میرے لہجے میں تشکر کے سوا کچھ بھی نہیں

تیرے چہرے کا یہ کیوں رنگ اڑا جاتا ہے

شکریہ نکہتِ گل، بُوئے چمن، موجِ نسیم

کوئی جھونکا مِرے آنگن میں بھی آ جاتا ہے

ہر غزل کہہ کے یہ محسوس ہوا ہے ساغر

دل میں جو تھا، وہی کہنے سے رہا جاتا ہے


ساغر مہدی

No comments:

Post a Comment