کام اب کے یہ خاص کر آیا
میں بھی اس کو اداس کر آیا
نوچ ڈالی منافقت اس کی
یوں اسے بے لباس کر آیا
غوطہ زن ہی رہے گا حیرت میں
اک سمندر کو پیاس کر آیا
بے خبر ہی وہ خود سے بہتر تھا
کیوں اسے خود شناس کر آیا
میں نے پہلی اڑان بھر لی ہے
اور اسے محوِ یاس کر آیا
یہ بھی اک امتحان تھا عارف
اس کو عارف شناس کر آیا
عارف اویسی
No comments:
Post a Comment