Friday, 2 December 2016

مجھے کس طرح یقیں ہو کہ بدل گیا زمانہ

مجھے کس طرح یقیں ہو کہ بدل گیا زمانہ
وہی آہِ صبح گاہی،۔۔ وہی گریۂ شبانہ
تب و تاب یک نفس تھا، غمِ مستعارِ ہستی
غمِ عشق نے عطا کی مجھے عمرِ جاودانہ
کوئی بات ہے ستمگر کہ میں جی رہا ہوں اب تک
تِری یاد بن گئی ہے،۔ مِری زیست کا بہانہ
میں ہوں اور زندگی سے گلۂ گریز پائی
کہ ابھی دراز تر ہے مِرے شوق کا ترانہ
جو اسیرِ رنگ و بُو ہوں تو مِرا قصور یا رب
مجھے تُو نے کیوں دیا تھا یہ فریب آب و دانہ
تُو جو قہر پر ہو مائل تو ڈبو دے موجِ ساحل
تِرا لطف ہو جو شامل، تو بھنور بھی آشیانہ
مِرے نالوں سے غرض کیا تیری نغمہ خوانیوں کو
یہ صدائے بے نوائی،۔۔۔ وہ نوائے دولتانہ

حفیظ ہوشیار پوری

No comments:

Post a Comment