وہ آ کے سامنے جس وقت مسکراتے ہیں
ہم ان کی ساری جفاؤں کو بھول جاتے ہیں
جفا پہ ان کی وفا کا گماں گزرتا ہے
کچھ اس طرح وہ مِرے دل کو یاد آتے ہیں
جفائے طعنۂ اغیار، یاد رہتی ہے
غمِ فراق کے صدمے تو بھول جاتے ہیں
الٰہی خیر ہو یہ آج دیکھتا کیا ہوں
وہ دیکھ دیکھ کے کیوں مجھ کو مسکراتے ہیں
دلِ حزیں کو میں اپنے فریب دے لوں گا
کوئی یہ جھوٹ ہی کہہ دے مجھے وہ آتے ہیں
ہم اپنے بھولنے والوںکو چاہتے ہیں حفیظؔ
وہ اپنے چاہنے والوں کو بھول جاتے ہیں
ہم ان کی ساری جفاؤں کو بھول جاتے ہیں
جفا پہ ان کی وفا کا گماں گزرتا ہے
کچھ اس طرح وہ مِرے دل کو یاد آتے ہیں
جفائے طعنۂ اغیار، یاد رہتی ہے
غمِ فراق کے صدمے تو بھول جاتے ہیں
الٰہی خیر ہو یہ آج دیکھتا کیا ہوں
وہ دیکھ دیکھ کے کیوں مجھ کو مسکراتے ہیں
دلِ حزیں کو میں اپنے فریب دے لوں گا
کوئی یہ جھوٹ ہی کہہ دے مجھے وہ آتے ہیں
ہم اپنے بھولنے والوںکو چاہتے ہیں حفیظؔ
وہ اپنے چاہنے والوں کو بھول جاتے ہیں
حفیظ ہوشیار پوری
No comments:
Post a Comment