Monday, 19 April 2021

اک شخص میری آنکھ کے سب خواب لے گیا

 پھر یوں ہوا کہ لذتِ دیدار چھن گئی

اک شخص میری آنکھ کے سب خواب لے گیا

پھر یوں ہوا کہ درد میں ملتا رہا سکوں

اک شخص زندگی کے حسیں باب لے گیا

تبدیل کرگیا مِرے جینے کے ڈھنگ سب

اذنِ وفا کے جرم میں وہ تاب لے گیا

پھر وسعتیں ملیں مجھے تنہائیوں کے سنگ

اک شخص چھین کر سبھی احباب لے گیا

پھر یوں ہوا کہ تاروں بھری رات رہ گئی

وہ شخص چھین کر مِرا مہتاب لے گیا

پھر یوں ہوا کہ حوصلے سب پست ہو گئے

اک شخص جینے کے سبھی اسباب لے گیا


وشال سحر

No comments:

Post a Comment