ممکنات سے مکالمہ
اپنے رومال میں روٹیاں باندھ کر
گاؤں سے ہم چلے
راستے میں کہیں قافلے لُٹ گئے
روڑیوں پر پڑی رات رونے لگی
نیند پلکوں پہ تھی سو وہیں سو گئی
خواب قیدی نہ تھے آپ بہنے لگے
پاؤں کیچڑ بنے
ہم مچلتے رہے اور دھنستے رہے
کتے بلے سبھی روٹیاں لے گئے
راستے ہنس پڑے، خواہشیں بُجھ گئیں
جسم ایندھن بنے
پھر بھی چاروں طرف رات ہی رات ہے
سارے مدہوش ہیں
کس کو آواز دیں
ارشد معراج
No comments:
Post a Comment