Monday, 19 April 2021

آنسوؤں کی ایک چادر تن گئی ہے

 آنسوؤں کی ایک چادر تن گئی ہے

دیکھنے میں روشنی ہی روشنی ہے

سُوکھے پتے سب اکٹھے ہو گئے ہیں

راستے میں ایک دیوار آ گئی ہے

غم کا ریلا ذہن ہی کو لے اڑا ہے

سوچئے تو آندھیوں کی کیا کمی ہے

چلو چلو روشنی کو پی رہا ہوں

موج دریا قطرہ قطرہ چاندنی ہے

رات میں دھنکا ہوا سورج پڑا تھا

دن میں ماجد دھوپ کالی ہو گئی ہے


ماجد الباقری

No comments:

Post a Comment