Tuesday, 22 March 2022

جیسے سورج کی آنکھ بھی نم ہے

 جیسے سورج کی آنکھ بھی نم ہے

آج کتنا اداس موسم ہے

اب تو میں دشمنوں کی زد میں ہوں

اب مجھے دوستوں کا کیا غم ہے

بجھ چکی ہیں شعور کی کرنیں

واقعی آج روشنی کم ہے

دل کسی کام میں نہیں لگتا

بے دلی کا عجیب عالم ہے

جتنے چہرے ہیں سارے جھوٹے ہیں

جو بھی تصویر ہے وہ مبہم ہے

شہر آباد ہو رہے ہیں نذیر

گاؤں میں ہجرتوں کا موسم ہے


نذیر تبسم

No comments:

Post a Comment