تِرے خیال کو اوڑھا بدن کو جادہ کیا
سفر کے شوق میں لمحوں کو یوں بھی سادہ کیا
یوں میں نے وقت کے گھوڑے پہ عمر پوری کی
نظر کو زِین پہ رکھا،۔ سفر پیادہ کیا
گرے ہوئے ہیں درختوں کے خواب سڑکوں پر
یہ تُو نے کون سے موسم میں مجھ سے وعدہ کیا
تِرے خیال برہنہ پڑے تھے اور میں نے
انہیں لباس دیا،۔ ریشمی لبادہ کیا
مِرے قریب میں صدیوں کی پیاس اُتری تھی
سو میں نے خواہشِ دریا کا در کُشادہ کیا
حسن مسعود
No comments:
Post a Comment