Sunday, 12 December 2021

زمین پاؤں تلے دلدلی لگے ہے مجھے

 زمین پاؤں تلے دلدلی لگے ہے مجھے

مسافرت کی یہ صورت نئی لگے ہے مجھے

یہ تجربے کا تقاضا ہے نام دوں کچھ اور

اب اک فریب سی یہ زندگی لگے ہے مجھے 

ہمارے شہر کا تم حال چال کیا پوچھو

کہ مخمصے میں ہر اک آدمی لگے ہے مجھے

بلا کی فتنہ گری ہے یہاں پسِ پردہ

بناوٹی سی یہاں خامشی لگے ہے مجھے

 ہمارے درد کے درماں کا عہد کرتا ہے

نیا ہی داؤ یہ دریا دلی لگے ہے مجھے

کسے سنائے کوئی دکھ کی داستاں اپنی؟

وبا کا کرب تو اب عالمی لگے ہے مجھے

یہ سوچتا ہوں کہ گوشہ نشین ہو جاؤں

تھکی تھکی سی مِری زندگی لگے ہے مجھے

عجیب دور سے ہے واسطہ پڑا بسمل

یہاں کی روشنی بھی تیرگی لگے ہے مجھے

 

خورشید احمد بسمل

No comments:

Post a Comment