زمین پاؤں تلے دلدلی لگے ہے مجھے
مسافرت کی یہ صورت نئی لگے ہے مجھے
یہ تجربے کا تقاضا ہے نام دوں کچھ اور
اب اک فریب سی یہ زندگی لگے ہے مجھے
ہمارے شہر کا تم حال چال کیا پوچھو
کہ مخمصے میں ہر اک آدمی لگے ہے مجھے
بلا کی فتنہ گری ہے یہاں پسِ پردہ
بناوٹی سی یہاں خامشی لگے ہے مجھے
ہمارے درد کے درماں کا عہد کرتا ہے
نیا ہی داؤ یہ دریا دلی لگے ہے مجھے
کسے سنائے کوئی دکھ کی داستاں اپنی؟
وبا کا کرب تو اب عالمی لگے ہے مجھے
یہ سوچتا ہوں کہ گوشہ نشین ہو جاؤں
تھکی تھکی سی مِری زندگی لگے ہے مجھے
عجیب دور سے ہے واسطہ پڑا بسمل
یہاں کی روشنی بھی تیرگی لگے ہے مجھے
خورشید احمد بسمل
No comments:
Post a Comment