زرد رُت
کرونا کی دہشث نے
ساری دنیا کو خوفزدہ کر دیا ہے
کیونکہ کرونا کاٹتا ہے
سانسوں کی ڈور
زندگی کی پتنگ
کرونا آیا کہاں سے؟
اور جائے گا کیسے؟
ایک بڑا سوال ہے
ہم تلاش کر رہے ہیں
اس سوال کا جواب
اور لڑ رہے ہیں زندگی کی جنگ
اس کرونا نے ہمیں موت کے تحفے میں
بہت سی باتوں کا دھیان دلایا
خود شناسں اور خدا شناسی کی طرف مائل کیا
کھانے پینے کے اصول کو توڑنے کا مزہ چکھایا
نائٹ کلبوں کے راون سے بچنے کے لیے
کھینچ دی لکشمن ریکھا
اور کہا؛ اپنے جسم کی حرارت اپنے اندر رکھو
بڑھتی ہوئی آبادی اور پھیلتی ہوئی آلودگی سے
سختی سے خبردار کیا
حلال اور حرام میں فرق کیا
ایک کمرے میں بند ہو کر
قبر کی گُھٹن یاد کرائی
اس تنہائی میں کوئی کسی کا نہیں
سوچیے؛ فطرت سے چھیڑ چھاڑ
بے شمار ایٹمی تجربے کس لیے؟
جنگل کا کٹاؤ، ندیوں کی پراگندگی
سمندر کو زہراب کس نے کیا؟
کم علمی کا فخر اور جُھوٹا تکبّر کیا ہوا؟
صرف ایک کرونا وائرس نے سینی ٹائز ہو کر
جینے پہ مجبور کر دیا ہے
اگر زندگی چاہتے ہو تو
سینی ٹائز ہو کر
اپنی اور اپنے خاندان کی
سماج اور ملک کی
دین اور دنیا کی مسکراہٹ کا حصہ بنو
ورنہ کرونا بے وقت موت کی دستک دے رہا ہے
جہاں کفن اوڑھنے کی بھی مہلت نہیں ہے
اور لاش عبرت و حسرت کا نمونہ
اشہد کریم الفت
No comments:
Post a Comment