Sunday, 12 December 2021

یہ سلسلۂ شوخیٔ جانانہ نیا ہے

 یہ سلسلۂ شوخیٔ جانانہ نیا ہے

ارشاد ہوا ہے کہ یہ دیوانہ نیا ہے

مطلب تو ہے اس سے کہ ہے میکتنی پرانی

اس سے ہمیں کیا کام کہ پیمانہ نیا ہے

آئینۂ تجدید ہے تاریخِ محبت

جس دور میں بھی سنیے یہ افسانہ نیا ہے

کس دھوکے میں ہو تم اسے کیوں چھیڑ رہے ہو

زنجیر پرانی سہی دیوانہ نیا ہے

آتا ہے بہت دیر میں لغزش کا سلیقہ

ساقی سے ابھی شیخ کا یارانہ نیا ہے

اے شمع تِری سوزشِ دیرینہ کی ہو خیر

کچھ آج مذاقِ غمِ پروانہ نیا ہے

اک عمر بعد اب ہوا اندازۂ وحشت

جب اس نے کہا میرا یہ دیوانہ نیا ہے

یہ دیکھ کے رندانِ کُہن بیٹھے ہوئے ہیں

غم کیا ہے جو ساقی تِرا مے خانہ نیا ہے

اب دل کی جگہ پھول چڑھاتے ہیں بتوں پر

اس دور میں دستورِ صنم خانہ نیا ہے

دامانِ تبسم میں ہو جزب ہر آنسو

اب عالمِ لطفِ غمِ جانانہ نیا ہے

کرتے ہیں سلام اور بڑے انداز سے جوہر

یاروں کا مِرے طرزِ حریفانہ نیا ہے


جوہر صدیقی

No comments:

Post a Comment