Sunday, 12 December 2021

دل کے زخم جلتے ہیں دل کے زخم جلنے دو

 دل کے زخم جلتے ہیں دل کے زخم جلنے دو

ہم کو ٹھوکریں کھا کر آپ ہی سنبھلنے دو

روشنی فصیلوں کو توڑ کر بھی آئے گی

رات کی سیاہی کو کروٹیں بدلنے دو

سائباں کی خواہش میں اک سفر ہوں صحرا کا

جسم و جاں پگھلتے ہیں جسم و جاں پگھلنے دو

پتھروں کی چوٹوں سے آئینوں نہ گھبراؤ

حادثوں کے آنگن میں زندگی کو پلنے دو

غم کی دھوپ میں جل کر رہ گئی ہر اک چھاؤں

ہم کو اپنی چاہت کے سائے سائے چلنے دو


جاذب قریشی

No comments:

Post a Comment