ہجر کی شام سے زخموں کے دوشالے مانگوں
میں سیاہی کے سمندر سے اجالے مانگوں
جب نئی نسل نئی طرز سے جینا چاہے
کیوں نہ اس عہد سے دستور نرالے مانگوں
اپنے احساس کے صحرا میں تقدس چاہوں
اپنے جذبات کی گھاٹی میں شوالے مانگوں
اپنی آنکھوں کے لیے درد کے آنسو ڈھونڈوں
اپنے قدموں کے لیے پھول سے چھالے مانگوں
ہر نئے موڑ پہ چاہوں نئے رشتوں کا ہجوم
ہر قدم پر میں نئے چاہنے والے مانگوں
اپنے احساس کی شدت کو بجھانے کے لیے
میں نئی طرز کے خوش فکر رسالے مانگوں
دن کی سڑکوں پہ سجا کر نئی صبحیں اکمل
شب کی چوکھٹ کے لیے آہنی تالے مانگوں
اکمل امام
No comments:
Post a Comment