Monday, 22 November 2021

ہجر کی شام سے زخموں کے دوشالے مانگوں

 ہجر کی شام سے زخموں کے دوشالے مانگوں

میں سیاہی کے سمندر سے اجالے مانگوں

جب نئی نسل نئی طرز سے جینا چاہے

کیوں نہ اس عہد سے دستور نرالے مانگوں

اپنے احساس کے صحرا میں تقدس چاہوں

اپنے جذبات کی گھاٹی میں شوالے مانگوں

اپنی آنکھوں کے لیے درد کے آنسو ڈھونڈوں

اپنے قدموں کے لیے پھول سے چھالے مانگوں

ہر نئے موڑ پہ چاہوں نئے رشتوں کا ہجوم

ہر قدم پر میں نئے چاہنے والے مانگوں

اپنے احساس کی شدت کو بجھانے کے لیے

میں نئی طرز کے خوش فکر رسالے مانگوں

دن کی سڑکوں پہ سجا کر نئی صبحیں اکمل

شب کی چوکھٹ کے لیے آہنی تالے مانگوں


اکمل امام

No comments:

Post a Comment