Saturday, 13 February 2021

مژدہ پھر لائے کوئی کل یہ ضروری تو نہیں

 مژدہ پھر لائے کوئی کل یہ ضروری تو نہیں

خواب سارے ہوں مکمل یہ ضروری تو نہیں

کوئی مجموعۂ خوشبو رگِ جان میں اُترے

اور کر دے مجھے صندل یہ ضروری تو نہیں

راحت آگیں ہے بہت تیرا سراپا، لیکن

پوجا جائے تجھے ہر پل یہ ضروری تو نہیں

رنگ و نکہت میں نہاتا ہوا وہ ابرِِ بہار

میرے گھر برسے مسلسل یہ ضروری تو نہیں

بڑا دلکش بنے تیرا دامِ محبت، لیکن

تُو مجھے کر لے مقفل یہ ضروری تو نہیں

ہجر کی دھوپ میں جلتی ہوئی اُمیدوں کو

سایہ بخشے تِرا آنچل یہ ضروری تو نہیں

قیس و فرہاد ہوئے عشق میں دیوانے خیال

عشق میں ہم بھی ہوں پاگل یہ ضروری تو نہیں


رفیق خیال

No comments:

Post a Comment