مژدہ پھر لائے کوئی کل یہ ضروری تو نہیں
خواب سارے ہوں مکمل یہ ضروری تو نہیں
کوئی مجموعۂ خوشبو رگِ جان میں اُترے
اور کر دے مجھے صندل یہ ضروری تو نہیں
راحت آگیں ہے بہت تیرا سراپا، لیکن
پوجا جائے تجھے ہر پل یہ ضروری تو نہیں
رنگ و نکہت میں نہاتا ہوا وہ ابرِِ بہار
میرے گھر برسے مسلسل یہ ضروری تو نہیں
بڑا دلکش بنے تیرا دامِ محبت، لیکن
تُو مجھے کر لے مقفل یہ ضروری تو نہیں
ہجر کی دھوپ میں جلتی ہوئی اُمیدوں کو
سایہ بخشے تِرا آنچل یہ ضروری تو نہیں
قیس و فرہاد ہوئے عشق میں دیوانے خیال
عشق میں ہم بھی ہوں پاگل یہ ضروری تو نہیں
رفیق خیال
No comments:
Post a Comment