Sunday, 17 October 2021

لمبی لمبی پلکوں والے تجھ پر کیسا نام سجے گا

 لمبی لمبی پلکوں والے تجھ پر کیسا نام سجے گا

لمبی لمبی پلکوں والے تجھ پر ایسا نام سجے گا

لمبی پلکوں والے نے اس شہر کا دل اپنایا ہے

ہم بیٹھے یہ سوچ رہے ہیں اس پر کیسا نام سجے گا

دوپہر کی گرمی ہے، اور چھاؤں نیم کی ٹھنڈی ہے

بیٹھ ہی جا اس چھاؤں میں پگلے تجھ پر یہ آرام سجے گا

زخمی ہاتھوں سے تھام ہی لو زخمی ہاتھوں کا کیا کہنا

کہتا ہے یہ ہر اک زخمی مجھ پر ہر اک جام سجے گا

بن مانگے موتی ملتے ہیں مانگے سے ملتی بھیک نہیں

چھین لے آ کر دل کو میرے تجھ پر یہ الزام سجے گا

مٹی کے جگر تک پہنچنے کو لوگوں نے ماتھے توڑے ہیں

تُو بھی ہاتھ میں تیشہ لے لے، تجھ پر یہی کام سجے گا


ماہ جبین ناز

مینا کماری ناز

No comments:

Post a Comment