لمبی لمبی پلکوں والے تجھ پر کیسا نام سجے گا
لمبی لمبی پلکوں والے تجھ پر ایسا نام سجے گا
لمبی پلکوں والے نے اس شہر کا دل اپنایا ہے
ہم بیٹھے یہ سوچ رہے ہیں اس پر کیسا نام سجے گا
دوپہر کی گرمی ہے، اور چھاؤں نیم کی ٹھنڈی ہے
بیٹھ ہی جا اس چھاؤں میں پگلے تجھ پر یہ آرام سجے گا
زخمی ہاتھوں سے تھام ہی لو زخمی ہاتھوں کا کیا کہنا
کہتا ہے یہ ہر اک زخمی مجھ پر ہر اک جام سجے گا
بن مانگے موتی ملتے ہیں مانگے سے ملتی بھیک نہیں
چھین لے آ کر دل کو میرے تجھ پر یہ الزام سجے گا
مٹی کے جگر تک پہنچنے کو لوگوں نے ماتھے توڑے ہیں
تُو بھی ہاتھ میں تیشہ لے لے، تجھ پر یہی کام سجے گا
ماہ جبین ناز
مینا کماری ناز
No comments:
Post a Comment