Saturday, 19 June 2021

راہ چلتے ہوئے جب پاؤں میں چھالے دیکھے

راہ چلتے ہوئے جب پاؤں میں چھالے دیکھے

ہم نے پوشیدہ اندھیروں میں اُجالے دیکھے

عیش و عشرت میں گُزرتی تھی کبھی جن کی حیات

ان کے محلوں میں لگے مکڑی کے جالے دیکھے

زہر نفرت کا فضاؤں میں وہ پھیلاتے ہیں

جس نے مسجد نہیں دیکھی، نہ شوالے دیکھے

جن کی باتوں سے کبھی پُھول جھڑا کرتے تھے

ان زبانوں پہ لگے ظُلم کے تالے دیکھے

جن کتابوں سے عیاں ہونے لگی سچائی

ان کتابوں کو بھی شُعلوں کے حوالے دیکھے

تابِ نظارہ کہاں اتنی نگاہوں میں مِری

چاند سے چہرے پہ جو زُلف کے حالے دیکھے

بات ہی بات میں دل جیت لیا ہے میرا

ان کی گُفتار کے انداز نرالے دیکھے

پیار کرنا کوئی آسان نہیں ہے صاحب

آپ کے جیسے کئی چاہنے والے دیکھے

ناؤ کا غذ کی ہمیشہ نہیں چلتی اصغر

ہم نے ساحل پہ کئی ڈُوبنے والے دیکھے


اصغر علی

No comments:

Post a Comment