کاٹنا خود ہے، جو بونا ہے جانتی ہوں میں
اپنے دُکھ میں خود رونا ہے جانتی ہوں میں
عشق کرامت، کشف عطا کر دیتا ہے تو
اگلے پل میں کیا کھونا ہے، جانتی ہوں میں
اونچے قد پر جو ہے تبصرہ کرنے والا
کتنا بلند، کتنا بونا ہے، جانتی ہوں میں
بس میں تجھ کو کھو کر پاگل ہو جاؤں گی
اس سے زیادہ کیا ہونا ہے، جانتی ہوں میں
مانتی ہوں میں ہنس لیتے ہو، پر دل کا تو
درد میں ڈوبا ہر کونا ہے، جانتی ہوں میں
تم کو اب دکھ کون بتائے، کہہ دو گے تم
روز کا یہ رونا دھونا ہے" جانتی ہوں میں"
ثروت مختار
No comments:
Post a Comment