ہم نے جونہی اڑان لینی ہے
تم نے بندوق تان لینی ہے
یار! کچھ تو خدا کا خوف کرو
کتنی پیاری ہو، جان لینی ہے
حکم کیجے تو ایسے کہتی ہو
جیسے ہر بات مان لینی ہے
دام اچھے لگا محبت کے
مجھ کو پوری دُکان لینی ہے
تیرا بوسہ تو بعد میں لوں گا
پہلے رب سے امان لینی ہے
تیرے شیریں سخن کا شہرہ ہے
تجھ سے اردو زبان لینی ہے
مخرب خراب
No comments:
Post a Comment