ہر کاسۂ دل کیف سے سرشار بہت ہے
مائل بہ کرم کوئی طرحدار بہت ہے
کب سطوتِ اسباب کی ہے دل کو تمنا
ہم اہلِ طریقت کو تو پندار بہت ہے
یہ عہدِ عبارت نہیں شمشیر و سناں سے
شوریدہ سرو! جرأتِ گفتار بہت ہے
کرتا ہے لہو دل کو ہر اک حرفِ تسلی
کہنے کو تو یوں قربتِ غمخوار بہت ہے
ہر چند رسائی میں نہیں فصلِ بہاراں
اربابِ جنوں دامن دلدار بہت ہے
ہونٹوں سے ہو مانوس اگر حق تو جنوں کو
اک نعرۂ منصور سرِ دار بہت ہے
عرفانہ عزیز
No comments:
Post a Comment