Saturday, 10 April 2021

ہر کاسۂ دل کیف سے سرشار بہت ہے

 ہر کاسۂ دل کیف سے سرشار بہت ہے

مائل بہ کرم کوئی طرحدار بہت ہے

کب سطوتِ اسباب کی ہے دل کو تمنا

ہم اہلِ طریقت کو تو پندار بہت ہے

یہ عہدِ عبارت نہیں شمشیر و سناں سے

شوریدہ سرو! جرأتِ گفتار بہت ہے

کرتا ہے لہو دل کو ہر اک حرفِ تسلی

کہنے کو تو یوں قربتِ غمخوار بہت ہے

ہر چند رسائی میں نہیں فصلِ بہاراں

اربابِ جنوں دامن دلدار بہت ہے

ہونٹوں سے ہو مانوس اگر حق تو جنوں کو

اک نعرۂ منصور سرِ دار بہت ہے


عرفانہ عزیز

No comments:

Post a Comment