Friday, 9 April 2021

بڑا اس شہر میں چھوٹے سے درجہ چھین لیتا ہے

 بڑا اس شہر میں چھوٹے سے درجہ چھین لیتا ہے

جو افسر ہے سپاہی سے وہ تمغہ چھین لیتا ہے

ہمیشہ باز اس دنیا کے چڑیوں پر جھپٹتے ہیں

جو کوّا ہے وہ بچے سے نوالہ چھین لیتا ہے

چمن کی آبیاری تو یہاں سب لوگ کرتے ہیں

مگر خوش حالیوں کو ایک طبقہ چھین لیتا ہے

یتیموں کے لیے جب بھی کوئی خیرات دیتا ہے

تو والی ہی ادارے کا وہ صدقہ چھین لیتا ہے

جو پیدا ہوتا ہے نا اہل کوئی حکمراں اسلم

تو اس کے تاج کو اس کا گڈریا چھین لیتا ہے


مولوی محمد اسلم

No comments:

Post a Comment