بڑا اس شہر میں چھوٹے سے درجہ چھین لیتا ہے
جو افسر ہے سپاہی سے وہ تمغہ چھین لیتا ہے
ہمیشہ باز اس دنیا کے چڑیوں پر جھپٹتے ہیں
جو کوّا ہے وہ بچے سے نوالہ چھین لیتا ہے
چمن کی آبیاری تو یہاں سب لوگ کرتے ہیں
مگر خوش حالیوں کو ایک طبقہ چھین لیتا ہے
یتیموں کے لیے جب بھی کوئی خیرات دیتا ہے
تو والی ہی ادارے کا وہ صدقہ چھین لیتا ہے
جو پیدا ہوتا ہے نا اہل کوئی حکمراں اسلم
تو اس کے تاج کو اس کا گڈریا چھین لیتا ہے
مولوی محمد اسلم
No comments:
Post a Comment