Friday, 9 April 2021

نیل گگن پر سرخ پرندوں کی ڈاروں کے سنگ

 نیل گگن پر سرخ پرندوں کی ڈاروں کے سنگ

بدلی بن کر اڑتی جائے میری شوخ امنگ

کومل کلیوں جیسا میرا پاک پوِتر سریر

پون کے چھونے سے اڑ جاتا ہے چہرے کا رنگ

سپنوں کی ڈالی پر چمکا ایک سنہرا پات

چڑھتا سورج دیکھ کے جس کا روپ ہوا ہے دنگ

جلتے بجھتے پھولوں سے اتری خوشبو کی راکھ

دھو کر آگ جو اس نے دیکھا انگاروں کا رنگ

طعنے دے کر لوگ لگاتے ہیں کیوں آگ میں آگ

بستی والے کیوں کرتے ہیں بیراگن کو تنگ


عرفانہ عزیز

No comments:

Post a Comment