Sunday, 17 April 2022

یہ دل کی بستی

 دل وطن میں یہ دل کی بستی

نا جانے کب کی اجڑ چکی  ہے

یہ خواب ریزہ متاعِ ہستی

دلوں پہ اثر کر گئی ہے

یہ زخم سارے جو دئیے تھے تو نے

یہ روح میں گھر کر گئی ہے

سلگتے آنکھوں میں ناچتی ہے

رگوں میں اک زہر بھر گئی ہے


عروبہ شاہ

No comments:

Post a Comment