Sunday, 17 April 2022

غم حیات سے فرصت ہمیں کبھی نہ ملی

غمِ حیات سے فرصت ہمیں کبھی نہ ملی

خوشی کے نام کو سنتے رہے خوشی نہ ملی

اسی کے دل سے کوئی اس کی تشنگی پوچھے

کہ مے کدے میں جسے ایک بوند بھی نہ ملی

میں جس طرف بھی جہاں میں گیا خوشی کے لیے

مجھے تو غم کے علاوہ کہیں خوشی نہ ملی

کبھی کبھی یہ جلانے کے بعد دیکھا ہے

مِرے چراغ سے خود مجھ کو روشنی نہ ملی

جو ان کے سامنے بے اختیار آئی تھی

پھر آج تک مِرے ہونٹوں کو وہ ہنسی نہ ملی

لگا لیا غمِ دوراں نے پھر کلیجے سے

غمِ حیات کے ماروں کو جب خوشی نہ ملی

مِرا مزاج زمانے نے لاکھ اپنایا

مِرے مزاج کی ایسی تو سادگی نہ ملی

وہ اور ہیں کہ جو لطفِ حیات اٹھاتے ہیں

کمال موت بھی مجھ کو ہنسی خوشی نہ ملی


کمال لکھنوی

سید غلام عباس

No comments:

Post a Comment